130

ہدایت کن لوگوں کا مقدر ہے؟

                             

(وہ لوگ )جو سنتے ہیں بات کو پھر وہ تعبداری کرتے ہیں اس میں سے اچھی بات کی یہی (لوگ ہیں) جنہیں ہدایت دی اللہ تعالی نے اور یہی لوگ ہی عقل والے ہیں۔ (سورۃ الزمر آیت ۱۸(
اس آیت ِ مقدسہ کے دو مقصود ہوسکتے ہیں۔
ایک یہ کہ عظیم لوگ ہر آواز کے پیچھے نہیں لگ جاتے بلکہ ہر ایک کی بات سن کر اس پر غور کرتے ہیں اور جو حق بات ہوتی ہے اسے قبول کرلیتے ہیں۔
دوسرا یہ کہ وہ بات کو سن کر غلط معنی بنانے کی کوشش نہیں کرتے بلکہ اس کے عمدہ اور بہتر پہلو کو اختیار کرتے ہیں۔
باوقارلوگوںکی ایک اچھی صفت کہ بات کو غور سے سنتے ہیں: سو ارشادہےکہ جو بات کو غور سے سنتے ہیں “۔ تاکہ یہ حق کو صحیح طور پر سمجھ کر صدق دل سے اپنا سکیں۔
کیونکہ کسی بھی کلام کو سمجھنے اور اس کے حقیقی مطلب تک رسائی کیلئے اولین تقاضا اور بنیادی شرط یہی ہے کہ اس کو غور اور توجہ سے سنا جائے۔ بہرحال ان خوش نصیب لوگوں کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ یہ ایسے لوگ نہیں ہوتے کہ جب ان کے سامنے حق و ہدایت کی بات پیش کی جائے تو یہ لڑنے کے لیے تیار ہوجائیں اور بولنے والے کا منہ نوچنے کے لیے تیار ہوجائیں۔ بلکہ یہ بات کو غور سے سنتے ہیں تاکہ یہ حق وباطل اور صحیح و غلط کے درمیان فرق وتمیز کرسکیں اور اس کے بعد حق کو اپنا سکیں۔ تاکہ اس کےثمرات سے مستفید و فیض یاب ہو سکیں۔ سو حق بات کو سننا اور ماننا یعنی اصلاح و احوال کے لیے ایک اہم اور بنیادی صفت ہے۔
سو ان سلیم الفطرت لوگوں کے بارے میں مزید ارشا د فرمایا گیا کہ” پھر وہ اتعبداری کرتے ہیں اس کےخوبصورت پہلو کی “۔
ان لوگوں کے برعکس جو کہ کجی اور ٹیڑھے پن کی تلاش میں ہوتے ہیں۔وباللہ التوفیق ۔
سو ایسےعظیم لوگ کلام حق کو صحیح طور پر اور پوری توجہ سے سنتے ہیں اور اس کے صحیح پہلو کو اپنا کر حقیقی مطلوب سے منور ہوتے ہیں۔
سو اس خطاب میں ” خاسرین ” کے مقابلے میں ” مصلحین ” اور ” فائزین ” کی صفات کوبھی واضح فرما دیا گیا ۔
{ فَیَتَّبِعُوْنَ اَحْسَنَہ }
احسن، احسن کی اتباع و پیروی میں دو باتیں آجاتی ہیں۔ ایک یہ کہ وہ توجہ سے سننے کے بعد بہتر اور عمدہ کلام کو لے لیتے ہیں اور جو اس کے خلاف ہوتا ہے اس کو ردکر دیتے ہیں۔
اور دوسرا معنی و مفہوم اس میں یہ بھی شامل ہے کہ وہ عمدہ کلام کی پیروی بھی اس کے اچھے پہلو اور اعلی مفہوم و مطلب کے اعتبار سے کرتے ہیں نہ کہ اس کا غلط مطالب نکال کر جس طرح منفی سوچ اور اوندھے مزاج کے لوگوں کا حال ہوتا ہے۔

{  وَاُولٰیِکَ ہُمْ اُولُوا الْاَلْبَاب  }

(Those who have common sense)
عقل سلیم رکھنے والوں کی نشاندہی: سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہی لوگ ہیں جو ہدایت کی دولت سے مالا مال ہوئے اور یہی لوگ ہیں عقل سلیم رکھنے والے خوش قسمت ” سو ایسے ہی تمام تر اندھیروں سے محفوظ ہوتے ہیں۔ اور یہی لوگ ہیں جو خداکی نعمتوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔
جب کہ بد اور زنگ آلود عقلیں اس شان سے عاری ہوتی ہیں۔ اوروہ حق کو سچ سمجھنے کی صلاحیت واہلیت سے بھی محروم ہوجاتے ہیں۔
(Sound)
دو چیزوں کے ٹکرانے سے جو چیز پیدا ہوتی ہے اس کو آواز کہتے ہیں ۔ توآواز اچھی بھی ہوتی ہے اور بری بھی ۔کان جو آواز سننے کا ایک آلہ ہیں ہر آواز کو سنتے ہیں خواہ وہ اچھی ہو یا بری۔ اس لیے زیر نظر آیت میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والے لوگوں کی ایک نشانی نی یہ بھی ہے کہ جب وہ کسی بات کو سنتے ہیں تو پھر اپنی فکر وسوچ سے کام لے کر ہر اس بات کی اتباع کرتے ہیں جو اچھی ہو اور ہر اس بات کو ان سنی کردیتے ہیں جو اچھی نہیں ہوتی پھر وہ لوگ جو یہ امتیاز حاصل کرلیتے ہیں یہ وہی ہیں جن کے د ل اللہ نے ہدایت کے لیے کشادہ کر دئیے ہیں اور ان کے دلوں میں اچھی بات بیٹھ جاتی ہے اور یہی لوگ ہیں جن کو قرآن کریم
اولو الالباب کے نام سےمخاطب کرتا ہے۔
جیسا کہ اوپربیان ہوا ہےآیت 8٭٭٭ ۔ ( اِنَّمَا یَتَذَکَّرُ اُوْلُوا الاَلْبَاب )۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں