56

اللہ کے ہاں غلبے کا دار و مدارتعداد کے ساتھ ساتھ اور کس چیز پر منحصر ہے؟

اے نبیﷺ آپ مؤمنین کو جہاد کی ترغیب دیجئے اگر تم میں سے بیس افراد ثابت قدم رہنے والے ہوں گے تو دو سو پر غالب ہوجائیں گے اور اگر تم میں سے سوافراد ہوں گے تو ہزار کافروں پر غالب ہوجائیں گے اس وجہ سے کہ یہ لوگ سمجھ نہیں رکھتے (القرآن)

دور جدید کی اصطلاح میں جس چیز کو قوت معنی یا قوت اخلاق جسے ( Morale ) کہتے ہیں ۔
اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اسی کو فکر و فہم اور سمجھ بوجھ ( Understanding ) سےموسوم کیا ہے ۔
اور یہ الفاظ و خطابات اس معنی کے لیےدور جدیدکی اصطلاح سے زیادہ سائنٹیفک ہیں ۔جیسےکہا گیا ہو ایسے عظیم لوگ جو اپنے مقصد کا صحیح شعور رکھتےہوں اور دل ِ ایماںسے خوب سوچ سمجھ کر اس لیے لڑ رہےہوں کہ جس چیز کے لیے وہ جان کی بازی لگانے آئے ہیں ، وہ اس کی انفرادی زندگی سےکہیں زیادہ قیمتی شی ہے، اور اس کے ضائع ہو جانے کے بعد جینا بے قیمت و بے معنی ہے ۔
اوربے شعوری کے ساتھ لڑنے والے آدمی سے کئی گنا زیادہ طاقت رکھتا ہے ، اگر چہ جسمانی طاقت میں دونوں کے درمیان کوئی فرق نہ ہو ۔ پھربھی جس شخص کو حقیقت کا شعور حاصل ہوجائے ، جو اپنی ہستی اور خدا کے ساتھ اپنے تعلق اور حیات و موت کی حقیقت اور حیات از بعد موت کی حقیقت کو اچھی طرح جانتا ہو ، اور جسے حق و باطل کے نتائج کا بھی صحیح ادراک ہو ، اس کی طاقت کو تو وہ لوگ بھی نہیں پہنچ سکتے جو قومیت و وطنیت کا شعور لیے ہوئے میدان میں آئیں ۔
اسی لیے فرمایا گیا ہے کہ ایک سمجھ بوجھ رکھنے والے مومن اور ایک کافر کے درمیان حقیقت کے شعور اور عدم شعور کی وجہ سےفطرتََ ایک اور دس کی نسبت ہے ۔ لیکن یہ نسبت صرف سمجھ بوجھ سے قائم نہیں ہوتی بلکہ اس کے ساتھ ساتھ صبر کی صفت کو اپنانابھی لازمی شرط ہے ۔
اس لئےکافرلوگ صحیح سمجھ نہیں رکھتے،جس کی وجہ سے ایمان نہیں لاتے اور چونکہ ایمان نہیں لاتے، اس لئے اللہ تعالیٰ کی مدد سے محروم رہتے ہیں، اور جواپنی دس گنا زیادہ تعداد کے باوجود مسلمانوں سے مغلوب ہوجاتے ہیں۔

بعض اہل علم کا کہنا ہے کہ قرآن مجید میں جہاد کا ذکرایک چوتھائی یعنی تقریباً سات پاروں کے برابر بنتا ہے۔

یہاں سمجھ نہ رکھنے سے مراد یہ ہے کہ انہیں اپنے موقف کی سچائی کا یقین ہےہی نہیں۔ ایک طرف وہ شخص جسے اپنے نظریے کی حقانیت پر پختہ یقین ہے‘ کہ وہ حق پر ہے اور حق کے لیے لڑ رہا ہے۔ دوسری طرف اس کے مقابلے میں وہ شخص ہے جو نظریاتی طور پرڈاما ڈول ہے‘ کوئی تنخواہ یافتہ ہے یا کسی کے حکم پر مجبور ہو کر لڑ رہا ہے۔ اب ان دونوں اشخاص کی کارکردگی میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ چنانچہ کفار کو جنگ میں ثابت قدمی اور استقلال کی وہ کیفیت حاصل ہو ہی نہیں سکتی جو نظریے کی سچائی پر جان فدا کرنے کے جذبے سے پیدا ہوتی ہے۔
وہ حق کو سمجھنے سے محروم ہیں اس لئے ان کی لڑائی تمام تر باطل مقاصد کے لئے ہے۔ اور جو گروہ باطل مقاصد کے لئے ہڑ رہا ہو وہ اپنی اندرونی معنوی قوت کے اعتبار سے کمزور ہی رہے گا۔ بخلاف اہل ایمان کے کیونکہ وہ حق کو سمھ چکے ہوتےہیں اور ان میں زبردست روحانی اور معنوی قوت پیدا ہوجاتی ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اللہ کی راہ میں جان دینا جان کو کھونا نہیں بلکہ اس کو پانا اور مر کر زندہ جاوید ہوجانا ہے۔

اسی فرق کی بنیاد پر کفار کے ایک سو افراد پر دس مسلمانوں کو کامیابی کی نوید سنائی گئی ہے۔

سیدنا ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ آپ ﷺنے فرمایا اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی مثال کے بارے میں، اور اللہ خوب جانتا ہے کہ اس کی راہ میں جہاد کرنے والا کون ہے۔ ایسے ہے جیسے ہمیشہ کا روزہ دار اور شب زندہ دار۔ اللہ نے اپنی راہ میں جہاد کرنے والے کے لیے اس بات کی ضمانت دی ہے کہ اگر اسے موت آ گئی تو جنت میں داخل کرے گا یا پھر اسے اجر اور غنیمت کے ساتھ صحیح و سالم واپس لوٹائے گا۔ (بخاری، کتاب الجہاد، )
سیدنا ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا :جو شخص اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے گھوڑا پا لے اور اس کی وجہ اللہ پر ایمان اور اس کے وعدوں کی تصدیق ہو تو بلاشبہ اس گھوڑے کا کھانا پینا، لید، پیشاب قیامت کے دن اس مجاہد کے ترازو میں (بطور نیکی) رکھے جائیں گے۔(بخاری، کتاب الجہا)
مسلمان کا دس کافروں پر غالب آنے کی وجہ؟:
یعنی لڑائی سے کفار کا مقصد قبائلی یا قومی عصبیت کے سوا کچھ نہیں۔ جبکہ مومنوں کا اپنی جان تک قربان کرنے کا مقصد اللہ کے کلمہ کی سربلندی و بالادستی اور رضائے الٰہی کا حصول ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں