80

دولت بڑھنے کا معیارکیا ہے؟

ہےکوئی شخص جو اللہ کو قرض حسن دے تاکہ اللہ اسے بڑھا چڑھا کر اس کے لئے کئی گنا کردے اور اللہ ہی تنگ دست کرتا ہے اور کشائش دیتا ہے ! اور تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔ (سورۃ البقرہ ۲۴۵)


”قرض حسن“ کا لفظی معنی”اچھا قرض“ ہے ، اور اس سے مراد ایسا قرض ہے ، جو خالصتاَ نیکی کے جذبے کے ساتھ بے غرضانہ کسی کو دیا جائے ۔ اس طرح کا مال جو راہ خدا میں خرچ کیا جائے ، اسے اللہ تعالیٰ اپنے ذمے قرض قرار دیتے ہوے وعدہ کرتاہے کہ میں نہ صرف اصل ادا کر دوں گا ، بلکہ اس سے کئی گنا زیادہ دوں گا ۔ البتہ شرط یہ ہے کہ وہ ہو قرض حسن ، یعنی اپنی کسی نفسانی غرض کے لیے نہ دیا گیا ہو ، بلکہ محض اللہ کی خاطر ان کاموں میں صرف کیا جائے ، جن کو وہ پسند کر تا ہے ۔
جو انفاق خالص اللہ تعالیٰ کے لیے کیا جاتا ہے اسے اللہ اپنے ذمے ّ قرض حسنہ سے تعبیر کرتا ہے۔ اللہ کا فضل دیکھیے کہ خود ہی سب کچھ عطا کرکے بندوں سے مانگ رہا ہے اور اسے اپنے ذمے قرض قرار دے رہا ہے۔ بشرطیکہ وہ قرض حسن ہو خلوص نیت کے ساتھ ہو، اس قرض کے متعلق اللہ کے دو وعدے ہیں ۔ایک یہ کہ وہ اس کو کئی گنا بڑھا کر واپس کر دے گا ۔دوسرایہ کہ وہ اس پر اپنی طرف سے بہترین اجر بھی عطا کرے گا۔یعنی جانی قربانی کی طرف مالی قربانی میں بھی تاویل کبھی بھی مت کرو ،رزق کی کشادگی اور تنگی اللہ کے ہاتھ میں ہے وہ دونوں طریقوں سے تمہاری آزمائش کرتا ہے کبھی رزق میں کمی کرکے اور کبھی فروانی کرکے، پھر اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے کمی نہیں ہوتی اللہ تعالیٰ اس میں کئی کئی گنا اضافہ فرماتا ہے کبھی ظاہری طور پر اور کبھی باطنی طور پر۔
سورۃ توبہ میں مال کے ساتھ جان کا بھی ذکر فرمایا ہے:
( اِنَّ اللّٰهَ اشْتَرٰي مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ الخ )
بے شک اللہ نے مومنوں سے ان کی جانیں اور ان کے اموال خرید لیے ہیں، اس کے بدلے کہ یقیناً ان کے لیے جنت ہے۔‘‘
سورۃ بقرہ: ہی میں ذکر ہے کہ اللہ تعالیٰ اس قرض حسن کو کئی گنا بڑھا کر دیں گے۔

:بہترین قرض
اللہ کو قرض حسنہ دینے کا حکم۔ (سورۃالمزمل : ٢٠)
اللہ اسے بڑھا کر واپس کرے گا۔ (سورۃالحدید : ١١)
اللہ اسے سات سو گناہ سے بھی زیادہ بڑھائے گا۔ (سورۃالبقرہ : ٢٦١)

صدقہ صرف اللہ کی رضا کے لیے دینا چاہیے۔ (سورۃالبقرۃ: ٢٦٥)

اضعافا (بڑھانا) یہ مصدر ہےبڑھنے کی جگہ۔
کثیرۃً(بہت زیادہ) کہ جس کی حقیقت اللہ تعالیٰ ہی بہترجانتے ہیں ۔
واللہ یقبض ویبسطُ (اور اللہ تعالیٰ تنگدست کرتا ہے اور کھولتا بھی ہے) یعنی اپنے بندوں پر رزق کو تنگ کرتا ہے اور وسیع بھی کرتا ہے پس تم بوقت وسعت بخل مت کرو۔ وہ وسعت کے بدلے تنگی نہیں کرے گا۔
والیہ ترجعون (اسی کی طرف تم لوٹائے جائو گے) یہ وعید ہے کہ تمہیں وہ ہر ایک کو اس کے عمل کے مطابق جزا دے گا۔
اﷲ کےساتھ تجارت:
پروردگار عالم اپنے بندوں کو اپنی راہ میں خرچ کرنے کی ترغیب دے رہا ہے جو جگہ بہ جگہ دی جاتی ہے‘ حدیث نزول میں بھی ہے‘ کون ہے جو ایسے اﷲ کو قرض دے جو نہ مفلس ہے نہ ظالم۔
ابن کثیرمیں ہے جب یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی ”’ من ذا الذی یقرض اللہ قرضا حسنا فیضعفہ لہ اضعافا کثیرۃ”اس آیت کو سن کرایک انصاری صحابی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے کہا ‘ یارسول اﷲﷺ کیا اﷲ تعالیٰ ہم سے قرض طلب فرماتا ہے۔
آپ ﷺنے ارشاد فرمایا ہاں، صحابی نے عرض کی اپنا ہاتھ دیجئے۔پھر ہاتھ میں ہاتھ دے کر عرض کی‘ حضورؐ میں نے اپنا باغ جس میں کھجور کے درخت ہیں‘ اﷲ تعالیٰ کو قرض دیا اور وہاں سے سیدھا اپنے باغ میںآئے اور باہر ہی کھڑے ہوکر اپنی بیوی صاحبہ کو آواز دی کہ بچوں کو لے کر باہر آجائو۔ میں نے یہ باغ اﷲ کی راہ میں دے دیا ہے ۔
جیسے کہ ایک اور مقام میںہے، مثل الذین ینفقون اموالھم الخ ،یعنی اﷲ کی راہ میں خرچ کرنےکی مثال اس دانہ جیسی ہے جس کی سات بالیں نکلیں اور ہر بال میں سات دانے ہوں اور اﷲ اس سے بھی زیاد ہ جسے چاہے دیتا ہے۔
ابن ابی حاتم میں ہے کہ حضرت ابوعثمان ؒ خود فرماتے ہیں‘ مجھ سے زیادہ حضرت ابوہریرہؓ کی خدمت میں کوئی نہیں رہتا تھا‘ آپ حج کو گئے پھر پیچھے سے میں بھی گیا بصرے پہنچ کر میں نے سنا کہ وہ لوگ حضرت ابوہریرہ کی روایت سے مندرجہ ذیل آیت بیان کرتے ہیں۔میں نے ان سے کہا‘ اﷲ کی قسم سب سے زیادہ آپ کا صحبت یافتہ میں ہوں‘ میں نے تو کبھی بھی آپ سے یہ حدیث نہیں سنی‘ پھر میرے جی میں آئی کہ چلو چل کر خود حضرت ابوہریرہؓ سے پوچھ لوں- چنانچہ میں وہاں سے چلا- یہاں آیا تو معلوم ہوا کہ وہ حج کو گئے ہیں۔میں صرف اس ایک حدیث کی خاطر مکہ کو چل کھڑا ہوا‘ وہاں آپ سے ملاقات ہوئی- میں نے کہا حضرت یہ بصرے والے آپ سے کیسی روایت کرتے ہیں؟ آپ نے فرمایا‘ واہ اس میں تعجب کی کون سی بات ہے- پھر یہی آیت پڑھی اور فرمایا کہ ساتھ ہی یہ قول باری بھی پڑھو فما متاع الحیوۃ الدنیا فی الآخرۃ الا قلیل یعنی ساری دنیاکا اسباب بھی آخرت کے مقابلہ میں حقیر چیز ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں