87

اسلام کےاحکام کو ہلکا لینےپرکیا انجام ہوتا ہے؟۔

یقیناوہ لوگ جن کو فرشتے اس حال میں روح قبض کریں گے کہ وہ اپنی جانوں پر ظلم کر رہے تھے وہ ان سے کہیں گے یہ تم کس حال میں تھے؟ وہ کہیں گے ہم مجبور اور کمزوربنا دیے گئے تھے اس زمین میں وہ (فرشتے) کہیں گے کیا اللہ کی زمین کشادہ نہیں تھی کہ تم اس میں ہجرت کرتے؟ تو یہ وہ لوگ ہیں جن کا ٹھکانا جہنم ہے‘ اور وہ بہت بری جگہ ہے ٹھہرنے کی۔ ﴿ۙ۹۷﴾ سورة النِّسَآء

جب مشرکین مکہ کے ظلم و ستم حد سے بڑھ گئےتوحکم خدا ہوا پھر پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفےﷺ نے مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی تو قدرتی طور پر ملک عرب دو حصوں میں بٹ گیا۔ دارالہجرت اور دارالحرب۔ دارالہجرت مدینہ تھا جہاں مسلمان ہجرت کر کے جمع ہوگئے تھے۔ دارالحرب ملک کا وہ حصہ تھا جو دشمنوں کے قبضے میں تھا اور اس کا صدر مقام مکہ تھا۔ دارالحرب میں جو مسلمان تھے وہ اعتقاد و عمل کی آزادی سے محروم تھے اس لئے انہیں حکم دیا گیا کہ مکہ سے ہجرت کر جائیں۔ اگر باوجود استطاعت نہیں کریں گے تو اپنی کوتاہی عمل کے لئے جواب دہ ہوں گے۔ اس آیت میں ان لوگوں کا ذکر کیا گیا ہے جنہوں نے اسلام قبول کرنے کے بعد بلا کسی مجبوری و معذوری کے ہجرت نہ کی اور اپنے ذاتی مفاد کی خاطر کفار کے درمیان رہنا پسند کیا اور عذاب کے مستحق ہوئے۔

اِنَّ الَّذِیْنَ تَوَفّٰٹہُمُ الْمَلآءِکَۃُ ظَالِمِیْٓ اَنْفُسِہِمْ
آخر موت تو آنی ہے‘ لہٰذا فرشتے جب ان کی روحیں قبض کریں گے تو ان کے ساتھ اس طرح مکالمہ کریں گے :
تم نے ایمان کا دعویٰ تو کیا تھا‘ لیکن جب رسول اللہﷺنے ہجرت کا حکم دیا تو ہجرت کیوں نہیں کی؟
مراد وہ لوگ ہیں جو اسلام قبول کرنے کے بعد بھی ابھی تک بلا کسی مجبوری کے اپنی کافر قوم ہی کے درمیان مقیم تھے اور نیم مسلمانہ اور نیم کافرانہ زندگی بسر کرنے پر راضی ہوگئےتھے ، حا لاںکہ ایک دارالاسلام قائم ہو چکا تھا جس کی طرف ہجرت کر کے اپنے دین و اسلامی نظریہ کے مطابق پوری اسلامی زندگی بسر کرنا ان کے لیےلازم ہوچکاتھا ۔ یہی ان کا اپنے نفس پر ظلم تھا ، کیونکہ ان کو پوری اسلامی زندگی کے مقابلہ میں نیم کفر و نیم اسلام پر جس چیز نے مطمئن کر رکھا تھا ، وہ کوئی واقعی مجبوری نہ تھی ، بلکہ اپنی جائیداد و املاک اور اپنے دنیاوی مفاد کی الفت تھی جسے انہوں نے اپنےمذہب پرفوقیت دی ۔
یعنی انہوں نے ہجرت نہیں کی تھی‘ اس سلسلے میں رسولﷺ کے حکم کی اطاعت نہیں کی تھی۔

یہ آیت مبارکہ ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو مکہ اور اس کے قرب و جوار میں مسلمان تو ہوچکے تھے لیکن انھوں نے اپنے آبائی علاقے اور خاندان کو چھوڑ کر ہجرت کرنے سےحکم عدولی کی، جب کہ مسلمانوں کی قوت کو ایک جگہ جمع کرنے کے لیے ہجرت کا نہایت تاکیدی حکم دیا جا چکا تھا، اس لیے جن لوگوں نے ہجرت کے حکم پر عمل نہیں کیا ان کو یہاں ظالم قراردے دیا گیا ۔ اور ان کا ٹھکانا بھی جہنم بتلایا گیا ہے،جس سے یہ معلوم ہوا کہ حالات ومواقع کے لحاظ سے اسلام کے بعض احکام کفر( ناقابل معافی) یا اسلام کے مترادف بن جاتے ہیں۔ جیسے اس موقع پر ہجرت کو اسلام اور اس سے گریز کو کفر کے مترادف قرار دیا گیا۔ دوسرا یہ کہ ایسے دارالکفر سے ہجرت کرنا فرض ہے جہاں اسلام کی تعلیمات پر عمل مشکل ہووہاں رہنا کفر اور اہل کفر کی حوصلہ افزائی کا باعث ہو۔

    قَالُوْا فِیْمَ کُنْتُمْ    

جب فرشتے ڈانٹ کے انداز میں ان سے پوچھتے ہیں کہ تم مسلمان تھے یا کافر ؟۔اور دارالکفر میں پڑے کیا کرتے رہے اور مدینہ کی طرف ہجرت کیوں نہ کی؟۔ اس سے معلوم ہوا کہ ایسے لوگ مسلمان ہونے کے باوجود بلا عذر ترک ہجرت کی بنا پر ظالم کی موت مرتے ہیں۔
فرمان رسول اللہﷺ ہے: مَنْ جَامِعَ الْمُشْرِکَ وَ سَکَنَ مَعَہُ فَإِنَّہُ مِثْلُہُ)
’’ جو شخص مشرک کے ساتھ اکٹھا رہے اور اس کے ساتھ سکونت رکھے تو یقیناً وہ اسی جیسا ہے۔‘‘
( أبو داوٗد، باب الجھاد، )
یعنی جب ایک جگہ خدا کے باغیوں کا غلبہ تھا اور خدا کے قانون شرعی پر عمل کرنا ممکن نہ تھا تو وہاں رہنا کیا ضرور تھا ؟ کیوں نہ اس جگہ کو چھوڑ کر کسی ایسی سر زمین کی طرف منتقل ہوگئے ہوتےجہاں قانون الہٰی کی پیروی ممکن ہوتی۔

دین کے اعتبار سے تمہارا کیا حال تھا؟۔
احکام دین پر عمل کرنا ہمارے بس میں نہ تھا؟۔

کیا آپ جانتے ہیں ہر نقل مکانی ہجرت نہیں ہے۔ ہجرت یہ ہے کہ مسلمان ایسے مقام کو جہاں اس کے لئے اپنے دین پر قائم رہنا جان جوکھوں میں ڈالنا کے قائم مقام بن جائے، ایسی جگہ کوچھوڑ کر ایسے مقام کو منتقل ہوجائے جہاں وہ اپنے دین و اعتقاد کے مطابق پوری اسلامی زندگی بسر کرسکتا ہو اور اگر دارُالسلام موجود ہو، اس کی طرف ہجرت کی راہ ہموار ہو، کوئی سخت مجبوری نہ ہو تو ایسے مقام سے ہجرت کر کے دارُالسلام میں منتقل ہوجانا واجب ہے ورنہ ایسے شخص کا ایمان معتبر نہیں۔
یہ دنیا جب سے معرض وجود میں آئی ہے اسی وقت سے لے کر حق و باطل کے معرکے پیش آتے رہے ہیں۔ حق و باطل کی اس جنگ میں ہمیں بے شمار ہجرتیں دکھائی دیتی ہیں۔

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا عراق سے ہجرت کر کے شام‘ مصر اور ارض مقدس کی طرف جانا اور پھر حجاز میں تشریف لا کر اپنے بیٹے اسماعیل (علیہ السلام) کے ذریعے حجاز کو مرکز دعوت مقرر کرنا‘ حضرت یعقوب (علیہ السلام) اور جناب یوسف (علیہ السلام) کی ہجرت مصر کی طرف، سیدنا لوط (علیہ السلام) کی ہجرت علاقہ سدوم کی جانب حضرت موسیٰ کلیم اللہ کی پہلی ہجرت مدین کی طرف اور اس کے بعد
ہزاروں ساتھیوں سمیت فلسطین کی طرف ہجرت کرنے کا ثبوت قرآن میں موجود ہے۔
دین کی خاطر وطن چھوڑنے والے کو مہاجر اور اس عمل کو ہجرت کہا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک نظریۂ اسلام جوکہ اللہ تعالیٰ کی رضا کا دوسرا نام ہے اس کی خاطر ہر چیز قربان کرنا لازم ہے۔ جو شخص ایمان کے لیے قربانی نہیں دیتا اور اس پر دوسری باتوں کو مقدم جانتا ہے۔ ایسا شخص ایماندار ہونے کا حق دار نہیں۔ ہجرت میں بھی یہی فلسفہ ہے کہ ناگزیر حالات میں ہمیشہ دب کر اور کمزور رہنے کے بجائے مسلمانوں کو ایسے مقام پرجمع کیا جائے جہاں اپنی افرادی قوت کو مجتمع کر کے کفار کے مقابلے میں کھڑاےہونے کے اقدامات اٹھا سکیں۔

                        تحریر و تحقیق:   محمد باسط نورانی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں