75

!مردے کیسے تصدیق کرتے ہیں کہ وہ مر چکے ہیں۔۔۔

شروعات میں ہرمردہ شخص کو یہ احساس تک نہیں ہوتا کہ وہ مر گیا ہے۔
وہ خودکی موت کو خواب دیکھتا ہوا محسوس کرتا ہے، وہ خود کو نہاتا، گرہ لگاتا اور قبرمیں اترتا ہوا دیکھتا ہے۔ وہ ہمیشہ مرنے سےلے کردفن ہونے تک کو خواب دیکھنے کا تاثر رکھتا ہے۔
جب وہ زمین میں ڈھیر ہو جاتا ہے۔
پھر وہ چیختاو چلاتا ہے لیکن کوئی اس کی چیخ سنتاہی نہیں، جب ہر کوئی منتشر ہو جاتے ہیں اور زمین کے اندر تنہا رہ جاتا ہے، اللہ اس کی روح کو بحال کردیتا ہے۔
وہ آنکھیں کھولتا ہے اور اپنے “برے خواب” سے جاگ جاتاہے۔ پہلے تو وہ خوش و خرم اور شکر گزار ی کرتاہے کہ، جس سے وہ گزر رہا تھا وہ صرف ایک خوف وہراس والا خواب تھا، اور اب وہ اپنی نیند سے بیدار ہوچکاہے۔
پھر وہ اپنے جسم کو چھوتاہے، جو کپڑوں میں لپٹا ہوا ہے ، خود سے حیرت کے عالم میں سوال کرتا ہےکہ “میری قمیض کہاں ہے ؟۔
“کہاں ہوںمیں۔؟
یہ جگہ کہاں ہے۔؟
ہر طرف بدبو کیوں ہے۔؟
میں یہاں کیا کر رہا ہوں۔؟
پھر اسے احساس ہونے لگتا ہے کہ وہ زیر زمین ہے، اور جو کچھ وہ محسوس کر رہا تھا وہ خواب نہیں ہے، اسے احساس ہوتا ہے کہ وہ واقعی مر گیا ہے۔
وہ ہر ممکن حد تک زور سے چیختا و پکارتا ہے۔
اس کےعزیز و اقارب جو اس کے مطابق اسے بچا سکتے تھے۔
اسے کوئی جواب نہیں دیتے۔
پھر وہ اللہ کو یاد کرتا ہے کیونکہ اس وقت اللہ ہی ذات سے امید ہے۔
وہ اس کے لیے روتا ہے اور اس سےگڑگڑاتے ہوئے اس سے التجا کرتا ہے۔
یا اللہ! یا اللہ۔!
مجھے معا ف فرمادےیا اللہ۔۔۔!

وہ ایک ناقابل یقین خوف سے چیختا ہے جو اس نے اپنی زندگی کے دوران پہلے کبھی بھی محسوس تک نہیں کیا ہوتا۔
اوراگر وہ ایک نیک و پاک انسان ہے تونورانی چہرے والے دو فرشتے اسے تسلی دینے کے لیے بیٹھ جائیں گے، پھر اس کی بہترین

خدمت کریں گے۔ گزاری
اگر وہ بد بخت شخص ہے تو فرشتے اس کے ڈر کو مزید بڑھا دیں گے اور اس کے برے کاموں کے مطابق اسے اذیت و تکالیف دیں گے۔
اے اللہ ! میرے ،اورمیرے ماں، باپ، بہن،بھائی خاندان اورتمام دوستوں کے گناہ معاف فرما۔
!آمین یارب العالمین
تحریر: محمد باسط نورانی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں