85

تابوت سکینہ اورہیکل سلیمانی

اَوْ کَالَّذِیْ مَرَّ عَلٰی قَرْیَۃٍ وَّہِیَ خَاوِیَۃٌ عَلٰی عُرُوْشِہَا ۔۔الی
سورۃ البقرہ آیت:259
یا پھر مثال کے طور پر (اس شخص کے حال پر بھی غور کرو) جو ایک (ایسی) بستی سے گزرا تھا جو اپنی چھتوں پر گری پڑی تھی۔ (یہ حال دیکھ کر) وہ بول اٹھاکہ کس طرح اللہ تعالی اس (آبادی) کو موت کے بعد دوبارہ زندہ کرے گا ۔ اس پر اللہ نے اس کو سو سال تک مردہ رکھا، پھر اسے زندہ کیا (اور) پوچھا،تم (اس حالت میں) کتنی مدت زندہ رہے ، (اس نے) جواب دیاایک دن یا ایک دن سے بھی کچھ کم۔ فرمایا (نہیں) بلکہ تم سو برس (اسی حالت میں) رہے ہو۔ اب ذرا اپنے کھانے اور پانی پر نظر ڈالو کہ سڑا (گلا) نہیں اور اپنے گدھے کی طرف نظر کرو (کہ اس کا کچھ باقی نہیں) اور یہ ہم نے اس لئے کیا ہےتا کہ تمہیں لوگوں کے لئے (اپنی قدرت کی) ایک نشانی بنا دیں۔ پھر ہڈیوں کی طرف نظر کرو کہ ہم کس طرح اس کو اٹھا کر اس پر گوشت چڑھاتے ہیں۔ پھر جب اس شخص پر (حقیقت) ظاہر ہوگئی تو وہ بول اٹھامیں جان گیا ہوں

کہ بیشک اللہ ہی ہر چیز پر قادر ہے۔

تاریخ میں اگرچہ اس واقعے کی مختلف تعبیرات ملتی ہیں‘ لیکن اکثر کا قول ہےکہ حضرت عزیر (علیہ السلام) کا واقعہ ہے جن کا گزر یروشلم شہر سے ہوا تھا جو تباہ و برباد ہوچکا تھا۔ عراق کے بادشاہ بخت نصرنے 586ق م میں فلسطین پر حملہ کیا تھا اور یروشلم کو تباہ کردیا تھا۔ اس وقت بھی عراق اور اسرائیل کی آپس میں بدترین دشمنی تھی۔ یہ دشمنی درحقیقت ڈھائی ہزار سال پرانی ہے۔ بخت نصر کے حملے کے وقت یروشلم بارہ لاکھ کی آبادی کا شہر تھا۔ بخت نصر نے چھ لاکھ جانوں کو قتل کردیا اور باقی چھ لاکھ کو بھیڑ بکریوں کی طرح ہانکتا ہوا قیدی بنا کرلے گیا۔ یہ لوگ ڈیڑھ سو برس تک قید میں رہے اور یروشلم اجڑا رہا ۔ وہاں کوئی جان زندہ نہیں بچی تھی۔ بخت نصر نے یروشلم کو اس طرح تباہ و برباد کیا کہ کوئی دو اینٹیں بھی سلامت نہیں چھوڑیں۔ اس نے ہیکل سلیمانی کو بھی مکمل طور پر شہید کر دیاتھا۔ یہودیوں کے مطابق ہیکل کے ایک تہہ خانے میں تابوت سکینہ بھی تھا اور وہاں ان کے ربائی بھی موجود تھے۔ ہیکل مسمار ہونے پر وہیں ان کی موت واقع ہوئی اور تابوت سکینہ بھی وہیں دفن ہوگیا۔ تو جس زمانے میں یہ بستی اجڑی ہوئی تھی‘ حضرت عزیر (علیہ السلام) کا ادھر سے گزر ہوا۔ انہوں نے دیکھا کہ وہاںکوئی جان زندہ نہیں اورنہ ہی کوئی عمارت سلامت ہے۔
قَالَ اَنّٰی یُحْیٖ ہٰذِہِ اللّٰہُ بَعْدَ مَوْتِہَا
ان کا یہ سوال اظہار حیرت کی نوعیت کا تھا کہ اس طرح اجڑی ہوئی بستی میں دوبارہ کیسےحیات ہوسکتی ہے؟ دوبارہ کیسے لوگ آ کر آباد ہو سکتے ہیں؟ اتنی بڑی تباہی کہ کوئی دو اینٹیں بھی سلامت نہیں!
فَاَمَاتَہُ اللّٰہُ ماءَۃَ عَامٍ ثُمَّ بَعَثَہٗ

قَالَ لَبِثْتُ یَوْمًا اَوْ بَعْضَ یَوْمٍ
ان کو یوںمحسوس ہوا جیسے تھوڑی دیر کے لیے سویا ہو‘ شاید ایک دن یادن کا کچھ حصہ ۔
قَالَ بَلْ لَّبِثْتَ ماءَۃَ عَامٍ
اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
بلکہ تم ایک صد(100)سال اسی حال میں رہے ہو۔
فَانْظُرْ اِلٰی طَعَامِکَ وَشَرَابِکَ لَمْ یَتَسَنَّہْ
دیکھو ‘ کھانے اور پانی کو ان کے اندر کوئی خرابی پیدا نہیں ہوئی۔
وَانْظُرْ اِلٰی حِمَارِکَ
حضرت عزیرعلیہ السلام کا گدھا اس دوران میں مکمل ختم ہوچکا تھا‘ اس کی ہڈیاںصرف باقی رہ گئی ‘ گوشت گل چکا تھا۔
وَلِنَجْعَلَکَ اٰیَۃً لِّلنَّاسِ
یعنی اے عزیر علیہ السلام ! ہم نے تو خود تمہیں لوگوں کے لیے ایک نشانی بنائی ہے‘ اس لیے ہم تمہیں اپنی یہ نشانی دکھا رہے ہیں تاکہ تمہیں
دوبارہ اٹھائے جانے پر یقین کامل ہو۔
وَانْظُرْ اِلَی الْعِظَامِ کَیْفَ نُنْشِزُہَا،۔ثُمَّ نَکْسُوْہَا لَحْمًا
چنانچہ حضرت عزیر علیہ السلام کے دیکھتے ہی ان کی سواری کی ہڈیاں جمع ہو کرڈھانچہ تیار ہوگیا پھر اس پر گوشت بھی چڑھ گیا۔
فَلَمَّا تَبَیَّنَ لَہٗ
حضرت عزیر (علیہ السلام) نے ایک مردہ جسم کے زندہ ہونے کا مشاہدہ کرلیا۔
قَالَ اَعْلَمُ اَنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ

انہیں یقین ہوگیا کہ اللہ تعالیٰ اس اجڑی ہوئی بستی کو بھی دوبارہ آباد کرسکتا ہے‘ اس کی آبادی اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔
حضرت عزیر علیہ السلام کو بنی اسرائیل کی نقیب کی حیثیت حاصل ہے۔ بنی اسرائیل کے قید کےدوران یہود اخلاقی زوال کا شکارہوگئے تھے۔ جب حضرت عزیر علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے مشاہدات کرا دیے تو آپ ( علیہ السلام) نے وہاں جا کر یہود کو دین کی تعلیم دی اور ان کے اندردین کی روح کو بیدار کیا۔ پھر اس کے بعد ایران کے بادشاہ کیخورس نے جب عراق پر حملہ کیا تو یہودیوں کوقیدسے نجات ملی اور انہیں دوبارہ فلسطین میں جا کر آباد ہونے کی اجازت دے دی گئی۔اور اس طرح یروشلم کی تعمیر نو ہوئی اور یہ بستی136سال بعد دوبارہ آباد ہوئی۔ پھر یہودیوں نے وہاں ہیکل سلیمانی دوبارہ تعمیر کیا جس کو وہ (Second Temple) یعنی معبد ثالث کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔

پھر یہ ہیکل سلیمانی 70عیسوی میں رومن جنرل ٹائٹس کے ہاتھوں تباہ ہوگیا اور تا حال دوبارہ تعمیر نہ ہو سکا۔
دو ہزار سال ہونے کو ہیں کہ ان کا کعبہ زیرِ زمین ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج دنیا بھر کے یہودیوں کے دلوں میں آگ بھڑکی ہوئی ہے اور وہ مسجد اقصیٰ کو مسمار کر کے وہاں ہیکل سلیمانی (Second Temple) تعمیر کرنے میں بےچین ہیں۔ نقائش بھی تیار ہوچکے ہیں۔ بس کسی دن کوئی ایک خود کش حملہ ہوگا اور خبرہو گی کہ کسی نے وہاں جا کر بم نصب کر دیا تھا‘ جس کی وجہ سے مسجد اقصیٰ شہید ہوگئی ۔
جیساکہ آپ کے علم میں ہےکہ ایک یہودی ڈاکٹر نے مسجد الخلیل میں 70مسلمانوں کو شہید کر کے خود بھی خود کشی کرلی تھی۔ اسی طرح کوئی یہودی مسجد اقصیٰ میںخود کش بم کر کے اس کو گرا دے گا اور پھر یہودی کہیں گے کہ جب مسجد مسمار ہو ہی گئی ہے تو اب ہمیں یہاں ہیکل سلیمانی تعمیر کرنے دیں۔ جیسےکہ بابری مسجد کے انہدام کے بعد ہندوؤں کا موقف تھا کہ جب مسجد گر ہی گئی ہے تو اب یہاں پر ہمیں رام مندر بنانے دو! بہرحال یہ حضرت عزیر (علیہ السلام) کا واقعہ تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں