فتنہ سے مراد 59

اس امت میں فتنے کیوں رکھے گئے ہیں

تاریک فتنے اور قیامت کی اہم نشانیاں

امتی ھذہ امۃ مرحومۃ ، لیس علیھا عذاب فی الآخرۃ ، عذابھا فی الدنیا الفتن ، والزلازل ، والقتل ۔
نبی رحمت عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میری یہ امت ،امت مرحومہ ہے ، (یعنی اس پر اللہ تعالیٰ کی بڑی رحمتیں ہیں ) آخرت میں اس کے لئے عذاب نہیں ، دنیا ہی میں ان کا عذاب فتنوں ،زلزلوں اور قتل وغارتگری کی شکل میں رکھا گیا ہے ۔ (ابو داؤد : ۸۷۲۴)
فتنہ قرآنی آیات کی روشنی میں :
قرآنی آیات میں فتنہ سے مراد :
قرآن میں فتنہ ازمائش کے معنیٰ میں : ونبلوکم بالشروالخیر فتنۃ والینا ترجعون
قرآن میں فتنہ گمراہی کے معنیٰ میں : ومن یرد اللہ فتنتہ فلن تملکلہ من اللہ شیئا
قرآن میں فتنہ عذاب کے معنیٰ میں: ذوقوا فتنتکم ھذاالذی کنتم بہ تستعجلون
قرآن میں فتنہ شرک کے معنیٰ میں : والفتنۃ اشد من القتل
قرآن میں فتنہ معصیت کے معنیٰ میں : ومنھم من یقول الأذن لی ولا تفتنی

فتنوں کے ہولناک ہونے کا تذکرہ :

عن عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ قال : ھذہ فتن اظلت کقطع اللیل المظلم ، کلما ذھب منھا رسل بدا رسل آخر ۔
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : فتنے جماعتوں کی شکل میں رونما ہونگے ، جب ایک گروہ چلا جائیگا تو دوسرا گروہ آجائیگا ۔ (الفتن لنعیم بن حماد : ۴۱)

فتنوں کی ہولناکی کا یہ عالم ہوگا کہ انسان اپنی زندگی سے بیزار ہو جائے گا ، قبر کو دیکھ کر یہ تمنا کرے گا کہ کاش میں اس کی جگہ ہوتا، اور یہ تمنا اللہ تعالیٰ سے ملاقات کے شوق میںنہ ہوگا ، بلکہ مصائب و شدائد اور فتنوں سے تنگ آجانے کی وجہ سے ہوگا، اورلوگو ں کے نزدیک موت اس ٹھنڈے پانی سے غسل کرنے سے بھی زیادہ محبوب ہوگی جو سخت گرمی کے دن محبوب اور پسندیدہ ہوتا ہے ، اور ہر آنے والا فتنہ اتنا ہولناک ہوگا کہ جتنا بھی ہولناک اور شدید واقعہ پیش آجائے ، لیکن بعد والا واقعہ اس گزرے ہوئے واقعہ کو حقیر اور کم تر بنا دے گا ۔ (الفتن لنعیم بن حماد ۴۵۱)

احادیث میں فتنوں کو کن چیزوں سے تشبیہ دی گئی ہے :

.1بارش کے قطروں کی طرح مسلسل اور تیزی سے فتنے آئیں گے۔ اشرف النبی ﷺ علی اطم ، من آطام المدنینۃ ،فقال: ھل ترؤن ما اری ، انی لاری مواقع الفتن خلال بیوتکم کمعواقع القطر۔
ایک دفعہ نبی رحمت ﷺ مدینے کے ایک ٹیلے پر چڑھے اور فرمایا: تم دیکھ رہے ہو جو میں دیکھ رہا ہوں ؟ صحابہ نے کہا : نہیں ! تو آپ ﷺ نے فرمایا : میں فتنوں کو دیکھ رہا ہوں ، جو تمہارے گھروں کے اندر بارش کی طرح برس رہے ہیں ۔ (بخاری ، ۸۷۸۱)
2۔ بادروا باالاعمال فتنا کقطع اللیل المظلم
شب تاریک اور اس کے ٹکڑوں کی طرح فتنے ہونگے ،یعنی جس طرح رات تاریک اور سیاہ ہوتی ہے اور راستہ سجھائی نہیں دیتا اسی طرح فتنے بھی تاریک اور سیاہ ہونگے اور یہ معلوم نہ ہوگا کہ کیا کروں کہاں جاؤں ۔ (ترمذی : ۵۹۱۲)

3۔ بعض فتنے گرمی کی آندھیوں کی طرح ہونگے۔ واللہ انی اعلم الناس بکل فتنۃ ھی کائنۃ ، فیما بینی وبین الساعۃ،وما بی الا ان یکون رسول اللہ ﷺ اسر الی فی ذالک شیئا ، لم یحدثہ غیری،ولکن رسول اللہ ﷺقال: وھو یحدث مجلسا انا فیہ عن الفتن ، فقال رسول اللہ ﷺ: وھو یعد الفتن : (منھن ثلاث لما یکدن شیئا ، ومنھن فتن کریاح الصیف منھا صغار ومنھا کبار) قال حذیفۃ : فذھب اولئک الرھط کلھم غیری ۔
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اللہ کی قسم میں سب لوگوں میں سے زیادہ ہر فتنہ کو جانتا ہوں جو میرے درمیان اور قیامت کے درمیان ہونے والا ہے ۔ اور یہ بات نہیں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے چھپا کر کوئی بات خاص مجھ سے کی ہو جو اروں سے نہ کی ہو ، لیکن رسول اللہ ﷺ نے ایک مجلس میں فتنوں کا بیان کیا جس میں بھی تھا ۔ تو آپ ﷺ نے ان فتنوں کا شمار کرتے ہوئے فرمایا: تین ان میں سے ایسے ہیں جو قریب ہیں کہ کچھ نہ چھوڑیں گے اور ان میں سے بعض گرمی کی آندھیوں کی طرح ہیں ، بعض ان میں سے چھوٹے اور بعض بڑے ہیں ۔ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اب میرے سوا اس مجلس کے سب لوگ فوت ہو چکے ہیں ۔ایک میں باقی ہوں (اس وجہ سے اب مجھ سے زیادہ فتنوں کو جاننے والا نہیں رہا)۔
4۔ دھوئیں کے ٹکرے کی طرح گہرے اور گاڑھے فتنے ہونگے ۔ ان بین یدی الساعۃ ، فتنا کقطع اللیل المظلم ، فتنا کقطع الدخان ۔ (مسنداحمد ۳۵۷۵۱)
5 ۔ اندھا ، گونگا ، اور بہرا فتنہ ہوگا ۔ ستکون فتنۃ صماء ، بکماء ،عمیائ،من اشرف لھا استشرف لہ ۔
حدیث میں ہے کہ عنقریب ایک ایسا فتنہ رونما ہوگا جو اندھا بہرا اور گونگا ہوگا،جو اسکو جھانگ کر دیکھے فتنہ اسے اپنی طرف کھینچ لے گا۔ اندھا بہرا اور گونگا ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس میں حق دیکھا ،سنا، بولا نہ جائے گا ،حق اور باطل کا امتیاز ختم ہو جائے

عن عبد اللہ بن عمر ، عنی النبی ﷺ قال : الآیات خرز منظومات فی سلک ، انقطع السلک فیتبع بعضھا بعضا۔
فتنے یکے دیگرے اسطرح آئیں گے جیسے ایک لڑی میں پروئے ہوئے دانے جس کادھاگہ ٹوٹ گیا ہو اور اس کے دانے ایک ایک کرکے گرنے لگیں ۔
7۔ فتنے گائے کے سروں کی طرح مشتبہ ہوں گے ۔ تکون فتن کقطع اللیل المظلم ، یتبع بعضھا بعضا ، تاتیکم مشتبہۃ کوجوہ البقر لما تدرون ایھا من ای ۔
(مستدرک للحاکم ، ۱۶۴۸)
8 ۔ سائبانوں کی طرح فتنے چھا جائیں گے۔ ثم تکون فتن کانھا الظلل ۔ (الفتن لنعیم بن حماد:۷)
9۔ سمندروں کی موجوں کی طرح ایک دوسرے سے ٹکرا رہے ہونگے۔ قال حذیفۃ : سمعت رسول اللہ ﷺ یقول: یاتیکم بعدی فتن لموج البحر یدفع بعضھا بعضا۔ (طبرانی کبیر ۴۲۰۳)
10۔ فتنے سائے ماند چھا جائیں گے۔ قال: الفتن تقع کالظل تعودون فیھا اساود صبا یضرب بعضکم رقاب بعض ، والاسود : الحیۃ ترفع ثم تنصب۔
(ابن ابی شیبہ : ۶۲۱۷۳)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں