19

فلسفہ قربانی

لَنْ یَّنَال اللّٰہَ لُحُوْمُہَا وَ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اللہ تعالی کو ہرگز نہیں پہنچتے ان کے گوشت اور نہ ہی ان کے خون،مگر ہاں اس کے پاس تمہارا تقوی پہنچتا ہے، اسی طرح اس نے ان کو تمہارے لیے مسخر کیا تاکہ تم اس پر اللہ کی بڑائی بیان کرو کہ اس نے تمہیں ہدایت دی اور اچھے کام کرنے والوں کو خوشخبری سنادیجئے۔

عبادات اصل مقصود نہیں بلکہ دل کا اخلاص و تقوی مقصود ہے :
لَنْ يَّنَال اللّٰهَ لُحُوْمُهَا میں یہ بتانا مقصود ہے کہ قربانی جو ایک عظیم عبادت ہے اللہ کے ہاں ان کا گوشت اور خون نہیں پہنچتا نہ وہ مقصود قربانی ہے بلکہ مقصود اصلی حکم ربی کو بجا لانا دلی اخلاص کے ساتھ ۔ یہی حکم دوسری تمام عبادات کا ہے کہ نماز کی نشست و برخاست کرنا اور بھوکا پیاسا رہنا اصلی مقصود نہیں بلکہ مقصود اصلی اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل دلی محبت و اخلاص کے ساتھ ہے اگر یہ عبادات اس اخلاص و محبت سے خالی ہیں تو صرف صورت اور ڈھانچہ ہے روح غائب ہے مگر حکم ربانی کی تعمیل کیلئے اس کی طرف سے یہ صورتیں متعین فرما دی گئی ہیںعبادات کی شرعی صورت اور ڈھانچہ بھی اس لئے ضروری ہے ۔

یہ ہے قربانی کی اصل روح اور فلسفہ کہ اللہ کو اس کا خون اور گوشت مطلوب نہیں بلکہ تقویٰ ( پرہیزگاری) مطلوب ہے۔ اور قربانی کی عبادات اسی لیے مشروع ہوئی تاکہ تقویٰ کے جذبات پرورش پائیں۔
قبول نہ ہونے کی وجہ یہ تھی قابیل کی قربانی کہ اس کی پشت پر تقویٰ کا جذبہ نہ تھا (سورۂ مائدہ ٢٧)۔

اسی حکم کی تعمیل میں قربانی کے جانور کو ذبح کرتے وقت بسم اللہ اللہ اکبر کہا جاتا ہے۔

قربانی کا اصل فلسفہ یہی ہے‘ بلکہ ہر عبادات کا فلسفہ یہی ہے۔ کسی بھی عبادت کا ایک ظاہری پہلو یا ڈھانچہ ہے اور ایک اس کی روح ہے۔ ظاہری ڈھانچہ اپنی جگہ اہم ہے اور وہ اس لیے ضروری ہے کہ اس کے بغیر اس عبادت کا بجا لانا ممکن نہیں‘ لیکن یہ ظاہری پہلو یا ڈھانچہ اصل دین اور اصل مقصود نہیں ہے۔ کسی بھی عبادت سے اصل مقصود اس کی روح ہے۔ اسی نکتہ کو علامہ اقبال ؔ نے ان اشعار میں واضح کیا ہے : ؂
رہ گئی رسم اذاں‘ روح بلالی نہ رہی
فلسفہ رہ گیا‘ تلقین غزالی نہ رہی
اور
نماز و روزہ و قربانی و حج
یہ سب باقی ہیں‘ تو باقی نہیں ہے!
چنانچہ قربانی کا اصل مقصود اور فلسفہ ہمارے دلوں کا اخلاص اورتقویٰ ہے۔ اللہ کے ہاں جو چیز اضروری ہے وہ یہ ہے کہ جو شخص قربانی دے رہا ہےآیاکہ وہ اپنی معمول زندگی میں اس کی نا فرمانی سے کتنا ڈرتا ہے؟ وہ اپنے روز مرہ کے معمولات میں اللہ کے احکام و قوانین کا کس قدر پابند ہے؟ کس قدر وہ اپنی توانائیاں‘ اپنی صلاحیتیں اور اپنا مال اللہ کی راہ میں صرف کر رہا ہے؟ کیا قربانی کے جانور کا اہتمام اس نے رزق حلال سے کیا ہے؟ اس قربانی کے پیچھے اس کا جذبۂ اطاعت و ایثار کس قدر ہے؟ یہ اور اسی نوعیت کی دوسری شرائط جو قربانی کی اصل روح اور تقویٰ کا تعین کرتی ہیں اگر موجود ہیں تو امید رکھنی چاہیے کہ قربانی اللہ کے حضور قابل قبول ہوگی۔ لیکن اگر یہ سب کچھ نہیں تو ٹھیک ہے آپ نے گوشت کھالیا‘ کچھ غریبوں کو بھی اس میں سے حصہ مل گیا‘ اس کے علاوہ شاید قربانی سے اور کچھ فائدہ حاصل نہ ہو۔
(کَذٰلِکَ سَخَّرَہَا لَکُمْ لِتُکَبِّرُوا اللّٰہَ عَلٰی مَا ہَدٰٹکُمْ ط) ’’
مسلمان سال میں دو عیدیں مناتے ہیں۔ ایک عید الفطر ہے جو روزوں کے بعد آتی ہے اور دوسری عید الاضحیٰ جو حج کے ساتھ منسلک ہے۔ اس ضمن میں یہ نکتہ لائق توجہ ہے کہ سورۃ البقرۃ کے ٢٣ ویں رکوع میں روزوں کے ذکر کے بعد بھی بالکل یہی حکم وارد ہوا ہے :
(وَلِتُکَبِّرُوا اللّٰہَ عَلٰی مَا ہَدٰٹکُمْ وَلَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ ) ’’ تاکہ تم لوگ اللہ کی تکبیر بیان کرو اس ہدایت پر جس سے اس نے تمہیں سرفراز کیا ہے اور تاکہ تم شکر ادا کیا کرو‘‘۔ یعنی دونوں مواقع پر اللہ کی تکبیر بلند کرتے ہوئے اس کی کبریائی کا اظہار کرنے کی خصوصی ہدایت کی گئی ہے۔ اسی لیے عیدین کی نمازوں کے لیے آتے جاتے تکبیریں پڑھنے کی تاکید احادیث مبارکہ میں ملتی ہے اور عیدین کی نمازوں کے اندر بھی اضافی تکبیریں پڑھی جاتی ہیں۔
(وَبَشِّرِ الْمُحْسِنِیْنَ) ’’
جوایمان و تقویٰ کی منزلیں طے کرتے ہوئے درجۂ احسان تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں وہی لوگ ہی محسنین ہیں ۔واللہ اعلم۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں